Skip to content

فلسفہ عشق

August 14, 2010

پچھلے دنوں ایک ناول عشق کا عین پڑ ھنے کا اتفاق ہوا ـ فلسفہ عشق کے بارے میں لاجواب کتاب ہے ـ آلِ رسول کی تعظیم کے بارے میں اس سے بہتر کتاب نہیں‌ پڑھی بہت ہی مؤثر پیرائے میں بات سمجھائ گئ ہے ـ ناصر کاظمی کی اس غزل نے ناول کو چار چاند لگا دیے ہیں ـ

میں نے  جب لکھنا  سیکھا  تھا

پہلے    تیرا     نام     لکھا    تھا

میں وہ اسمِ عظیم ہوں، جس کو

جن و مَلک  نے  سجدہ  کیا   تھا

میں وہ صبرِ  صمیم  ہوں جس نے

بارِ    امانت   سر    پہ    لیا   تھا

تو  نے  کیوں  مِرا  ہاتھ   نہ   پکڑا

میں  جب  رستے سے بھٹکا تھا

پہلی    بارش    بھیجنے    والے

میں  ترے  درشن  کا  پیاسا  تھا

From → Uncategorized

8 Comments
  1. yasir mirza permalink

    Excellent and thought provoking.

  2. yah Its really very great post…

  3. میں نے یہ ناول کچھ عرصہ قبل کسی ڈائجسٹ میں سلسلہ وار پڑھا تھا گو کہ کچھ قسطیں ہی پڑھ سکا لیکن اندازہ ہوگیا کہ سوچ کے نئے در وا کرنے والی بہت بہترین تحریر ہے۔۔۔

  4. ji bht hi achi ktab thi wo

  5. عارف بھائی، یہ بہت اچھی کتاب ہے۔ شائد دو تین دفعہ پڑھی ہے۔
    آپ نے اپنی بلاگ کافی پہتر کر لی ہے۔

  6. عشق ۔۔۔۔۔۔۔
    نہ ہی ہو تو بہتر ہے
    اللہ سب کو ہدایت دے

    • تہیم صا حبہ خوش آمدید-
      اگر ہو جائے تو کیا کیا جائے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.